حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام کی روشنی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپؐ کی رحلت امت کے لیے ایسی عظیم مصیبت تھی کہ اس کے مقابلے میں دیگر تمام مصیبتیں معمولی اور حقیر دکھائی دیتی ہیں۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اپنے ایک خطاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے عظیم صدمے کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلمات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصیبت کو تمام مصیبتوں سے عظیم قرار دیا ہے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اس فرمان کی طرف اشارہ کیا کہ: «وَإِنَّ الْمُصَابَ بِکَ لَجَلِیلٌ، وَإِنَّهُ قَبْلَکَ وَبَعْدَکَ لَجَلَلٌ»
یعنی آپ کی رحلت کا صدمہ نہایت عظیم اور ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ آپؐ کی رحلت سے پہلے اور اس کے بعد آنے والی دیگر مصیبتیں اس کے مقابلے میں معمولی ہیں۔
آیت اللہ جوادی آملی نے وضاحت کی کہ یہاں «جَلِیل» سے مراد عظیم اور بہت بڑی مصیبت ہے، جبکہ «جَلَل» کے معنی معمولی اور حقیر کے ہیں۔ چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت ایسی عظیم مصیبت ہے کہ اس کے مقابلے میں باقی تمام مصیبتیں معمولی محسوس ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ایک دوسرے مقام پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بارے میں فرمایا:
«لَقَدْ خَصَّصْتَ حَتَّی صِرْتَ مُسَلِّیًا عَمَّنْ سِوَاکَ، وَعَمَّمْتَ حَتَّی صَارَ النَّاسُ فِیکَ سَوَاءً»
یعنی آپؐ کی مصیبت ایسی منفرد اور عظیم ہے کہ دوسری تمام مصیبتوں کے مقابلے میں آپؐ کی یاد انسان کے لیے باعثِ تسلی بن جاتی ہے۔ کوئی بھی مصیبت آپؐ کی رحلت کے برابر نہیں، اور آپؐ کے وصال کے بعد آنے والی مشکلات کو بھی اسی عظیم صدمے کے مقابلے میں برداشت کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے یہ کلمات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے عظیم روحانی اور اجتماعی اثرات کو واضح کرتے ہیں۔
حوالہ:
۱۔ نہج البلاغہ، حکمت 292
۲۔ نہج البلاغہ، خطبہ 235









آپ کا تبصرہ